سپریم کورٹ کی دورکنی بینچ نے ایک ہفتہ بعد سماعت کرنے کا حکم جاری کیا:گلزار احمد اعظمی
ممبئی،21؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مالیگاؤں ۲۰۰۸ ؍بم دھماکہ معاملہ کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت اور سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل کردہ عرضداشتوں کی سماعت اب ایک ساتھ کی جائے گی ۔جمعیۃ علماء کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس ابھے منوہر سپرے کی عدالت میں آج سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی ضمانت مسترد کئے جانے کی عرضداشت پر سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بینچ نے جمعیۃ کے وکلاء ایڈوکیٹ اعجازمقبول اور ایڈوکیٹ گورو اگروال کو بتلایا کہ اسی معاملے کے دیگر ملزم کرنل پروہت کی جانب سے داخل کردہ ضمانت کی عرضداشت کے ساتھ ایک ہفتہ بعد سماعت کے لئے طلب کیا جائے گا ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے اس تعلق سے کہا کہ مالیگاؤں ۲۰۰۸ ؍بم دھماکہ معاملے کے متاثرین میں سے ایک نثار احمد سید بلال جن کا جواں سال فرزند سید اظہر دھماکوں میں شہید ہوگیا تھا کی جانب سے بطور مداخلت کار سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی تھی جسے گزشتہ سماعت پر ہی عدالت نے قبول کرلیا تھا نیز ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کے دوران جمعیۃ کے وکلاء ملزم کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کریں گے ۔گلزار احمد اعظمی نے کہا کہ ایک جانب جہاں جمعیۃ ملزم کرنل پروہت کی ضمانت کی مخالفت کرنے کے لئے کمر بستہ ہے وہیں ممبئی ہائی کورٹ کیجانب سے ضمانت پر رہائی کا پروانہ حاصل کرنے والی بھگوا دہشت گرد سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی ضمانت منسوخ کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کر چکی ہے جسے عدالت نے سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے ملزمہ اور قومی تفتیشی ایجنسی سمیت مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے نیز آج دو رکنی بینچ نے دونوں عرضداشتوں کو یکجا کرکے سماعت کر نے کے احکامات جاری کئے ۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس نریش اگروال اور پرکاش نائیک نے ملزم کرنل پروہت کی یہ کہتے ہوئے ضمانت مسترد کردی تھی کہ بادی النظر میں ملزم کیخلاف پختہ ثبوت وشواہد موجود ہیں جس کے بعد ملزم نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے لیکن اسی بینچ نے سادھوی کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ ۲۹ ستمبر ۲۰۰۸؍ کو ہونے والے اس سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ میں ۶ ؍ مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے مقدمہ کی ابتدا ئی تفتیش انسداد دہشت گرد دستہ ( اے ٹی ایس ) نے آ نجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگوا دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی بلا وجہ تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے بھگوا ملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگوا ملزمین کو راحت پہنچائی ۔